
اکثر افراد بلڈ پریشر کے مسائل کا سامنا کرنے پر فوراً خوراک، ورزش اور دواؤں پر توجہ دیتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے کا طریقہ اور وقت بھی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے؟
امریکہ میں مقیم معروف ماہر امراضِ قلب، ڈاکٹر بھوجراج، نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس بات کی وضاحت کی کہ نیند کا وقت اور انداز بلڈ پریشر کے کنٹرول میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
صرف خوراک اور ورزش کافی نہیں، نیند بھی ضروری ہے
ڈاکٹر بھوجراج کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ صرف صحت مند خوراک اور روزانہ کی ایکسرسائز سے ہی بلڈ پریشر کنٹرول میں رہ سکتا ہے، لیکن میں اپنے ہر مریض سے کہتا ہوں کہ خوراک اور ورزش کے ساتھ نیند کے اوقات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
اگر نیند کا معمول بگڑ جائے تو بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ویک اینڈ پر بھی ایک ہی وقت پر سوئیں
بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈاکٹر کا پہلا مشورہ یہ ہے کہ روزانہ ایک مقررہ وقت پر سونے کی عادت ڈالیں، چاہے وہ ویک اینڈ ہی کیوں نہ ہو۔
ان کے مطابق روزانہ ایک ہی وقت پر سونے سے دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے، کورٹیسول (تناؤ پیدا کرنے والا ہارمون) کی سطح کم ہوتی ہے اور مجموعی طور پر بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
زیادہ سونا ضروری نہیں، روزانہ وقت پرسونا ضروری ہے
ڈاکٹر بھوجراج کے مطابق بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے دیر تک سونا ضروری نہیں بلکہ روزانہ ایک ہی وقت پرسونا ضروری ہے۔
نیند کا ایک مقررہ وقت جسم کو یاد دلاتا ہے کہ کب آرام کرنا ہے اور کب سرگرم ہونا ہے۔ اس سے بلڈ پریشر بھی متوازن رہتا ہے۔
نیند اور ہائی بلڈ پریشر کا تعلق ، سائنسی حقیقت
ڈاکٹر بھوجراج کہتے ہیں کہ نیند کی کمی یا بے ترتیبی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ نوجوانوں کو روزانہ کم از کم 7 سے 9 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔
ایسے افراد جو روزانہ 6 گھنٹے سے کم سوتے ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہو جاتا ہے۔
خراب نیند کے نقصانات
ماہرین کے مطابق کم یا خراب نیند کئی بیماریوں کی جڑ ہے، جیسے کہ تناؤ، ایگزائٹی، ذیابیطس اور ہارمونی توازن کا بگڑنا۔
ان سب مسائل سے دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اس کے برعکس مناسب نیند جسم کو آرام دیتی ہے، تناؤ کے ہارمونز کو کم کرتی ہے اور میٹابولزم کو متوازن رکھتی ہے، جس سے دل زیادہ مضبوط اور صحت مند رہتا ہے۔
دیر تک سونے سے کیا ہوتا ہے؟
ڈاکٹر بھوجراج نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر زور دیا کہ دیر تک سونے کے بجائے وقت پر سونا زیادہ مفید ہے۔
ان کے مطابق زیادہ نیند لینے سے بھی نقصانات ہوتے ہیں، جیسے ذیابیطس، موٹاپا، اور سانس لینے میں مشکلات۔ ایسی صورتحال میں نیند کا معیار متاثر ہوتا ہے اور رات کے وقت بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
گھڑی کی مدد سے نیند کا نظام قائم کریں
دل کی صحت کے لیے ڈاکٹر بھوجراج کا آسان مشورہ ہے کہ گھڑی کی مدد سے نیند کا نظام بنائیں۔ وقت پر سونا اور وقت پر جاگنا بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کا ایک سادہ اور مؤثر طریقہ ہے۔
نیند صرف آرام کا ذریعہ نہیں بلکہ بلڈ پریشر سمیت دل کی صحت کے لیے بھی ایک بنیادی ستون ہے۔
اگر آپ بلڈ پریشر کے مریض ہیں یا اس سے بچنا چاہتے ہیں، تو آج ہی سے اپنے سونے کے وقت کو نظم میں لائیں، چاہے ہفتہ ہو یا اتوار۔
from صحت https://ift.tt/qsJdINV
0 Comments