
ماہرین کے مطابق یہ شرح عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے، جو ملک میں صحت عامہ کے بڑے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ذیابیطس کے علاج پر خرچ ہونے والا تخمینہ ایک کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں کئی ممالک کے لیے ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج بن رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 20 سے 79 سال کے تقریباً 589 ملین بالغ ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ہر 9 میں سے ایک شخص اس مرض کا شکار ہے۔
ان میں سے تقریباً 252 ملین افراد ابھی تک تشخیص شدہ نہیں ہیں اور بغیر علاج سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد دنیا میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور ایشیائی ممالک اس بحران کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔
چین، بھارت اور پاکستان دنیا میں ذیابیطس کے سب سے زیادہ مریض رکھنے والے تین ممالک بن گئے ہیں۔ چین میں 148 ملین، بھارت میں 101 ملین، اور پاکستان میں 36 ملین مریض ہیں۔
ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جس میں خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے کیونکہ جسم انسولین بنانے یا اسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
اس حوالے سے وزارت صحت کے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نیلسن عظیم نے بتایا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 40 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرض سے بچاؤ کے لیے طرز زندگی میں تبدیلی، باقاعدہ ورزش اور متوازن غذائی عادات کو اپنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ذیابطیس کے مریضو ں کی تعداد میں گزشتہ 5 سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد اگلے 5 سالوں میں مزید بڑھ جائے گی، اگر ہم نے اپنا طرز زندگی تبدیل نہ کیاسرکاری سطح پر ذیابطیس کی ادویات مفت فراہمی یقنی بنائی جارہی ہے لیکن اس سے بچاو کے لیے ضروری ہے مشروبات ، فاسٹ فوڈسے اجتناب کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا ہم نے اس مرض سے بچاؤ کے لیے اسکولز، کالجز اوریونیورسٹی کی سطح پر آگاہی مہم شروع کی اور گاہے بگاہے واک کا اہتمام بھی کرتے رہتے ہیں۔
from صحت https://ift.tt/ZiLPwe0
0 Comments