
محققین نے خون میں موجود ایسے کیمیائی عناصر یا نشانیاں کا جائزہ لیا جو الزائمر کی شروعات سے متعلق ہوتی ہیں، جن میں pTau217، NfL اور GFAP شامل ہیں۔
نتائج کے مطابق، زیادہ وزن والے افراد کے خون میں یہ الزائمر سے متعلق نشانیاں معمولی وزن والے افراد کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد سے 95 فیصد زیادہ تیزی سے بڑھیں۔
ماہرین کے مطابق خون کے ٹیسٹ دماغ کی اسکین کے مقابلے میں بیماری کی ابتدا کا جلد پتہ دے سکتے ہیں، جس سے بروقت علاج کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزن کو کم کرنا یا قابو میں رکھنا دماغی نقصان کی رفتار کو کم کر سکتا ہے۔
محققین نے زور دیا کہ وزن کا بڑھنا صرف دل یا شوگر کے مسائل نہیں بڑھاتا بلکہ دماغ کی صحت پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔
یہ تحقیق اس خیال کو مضبوط کرتی ہے کہ صحت مند وزن برقرار رکھنا الزائمر جیسے مرض کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ جب سائنس دانوں نے موٹاپے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان تعلق کو خون کے بائیو مارکر ٹیسٹوں سے ناپا ہے۔
from صحت https://ift.tt/0lLYEWD
0 Comments